VOL 1. NO. 2, 1-7, MAY 22, 2025.
کشمیر مخالف نسل پرستی کی تعریف
منجانب: بنیش احمد – ترجمہ: ڈاکٹر فہد احمد
کشمیر مخا لف نسل پرستی در اصل مقامی اور ایشیای مخا لف نسل پرستی کی ایک شکل ھے جو دقیانوسی امتیازی برتاو کےتصورات پر مبنی ہے جو قطعی غیر انسانی سلوک کا مظہر ہے جسکی وجہ سے کشیمیریوں کوپسماندہ بناتے ھیں اور انکے نظریات کو دبا کر مٹایا اور غایب کر دیا جاتا ھے ۔
کشمیر مخا لف نسل پرستی ایک منظم سرکاری اداراہ جاتی فکرونظر ھےجسکےاثر کی وجہ سےکشمیریوں کے خلاف عدم مساوات ، نفرت اور تشد د جنم لیتی ہے۔
کشمیرمخالف نسل پرستی کشمیر کے مختلف روحانیی و مذھبی عقیدہ کے گروھوں کی کثریت سے انکار پر مشتمل ہے جو تاریخی اعتبار سےیہ جانا جاتاھےکےاس میں ھندو’ مسلم’ سکھ ‘ عیسای ‘ بدھ اور دوسرے مذاھب شامل ھیں۔
کشمیر کے اندر اس کثریت کو دیکھتے ھوے یہ کہنے میں کوئ جھجک نہیں ھۓ کے کشمیر مخالف نسل پرستی کے تار دوسری طاقت اور جبری نظام سے جُڑی ھوئ ھۓ بعض اوقات کشمیر مخالف نسل پرستی مسلم نسل پرستی کے ساتھ بھی منسلک کرکے دیکھا جاتا ھۓ جسکی وجھ سے کشمیری مسلموں کو دقیانوس اور شیطان (برائ کا مجسمہ) ظاھر کرکے بدنام کرنے کوشس ھوتی ھے اور انھیں ایک دھشتگرد ٗ عسکریٹ پسند اور باغی وغیرھ میں شامل کیاجاتاھے ٗجسکے نتیجہ میں مقامی کشمیری مسلم کوبیرونی نسل پرست ڈھاںچھ کا سامنا کرنا پڑتا ھے اور انھیں استعمار کی طرف سے بیرونی حملہ آور جیسے جملوں سے نوازا جاتاھے اور کشمیر کے مقامی ھونے کے زمرہ سے خارج کر دیآ جاتا ھے ٗ کشمیر مخالف نسل پرستی اور نفرت کی وجہ سے انھیں دقیآ نوس ظاھر کیآ جاتا ھےاور خاص کر مسلمانوں اور سکھوں کو فطری طور پر تشدد کرنے والا ٗ پسمآندہ ٗ وحشیانہ اور دھشت گرد کے طور پر پیش کر کے تصور کشی کی جاتی ھے۔
بنییادی طور پر کشمیر مخالف نسل پرستیی حقیقتاً نسل کش آبادکار استعمار سے منسلک ھے جسکا چھپا مقصد کشمیری عوام کے زمینوں کو غصب کرنا ھے (تاکہ خود مختاری کے مطالبہ سے محروم کیآ جا سکے) حالانکہ کشمیری خود مختاری کا نہ کبھی زوال آیا نہ کبھی یہ اس مطا لبہ کوبجھا پاے (یہ بات کہنے میں کوئ گریز نہیں کہ) یہ ویسٹ فیلین کےبعد کے سامراجی یوروسنٹرک نسل کشی
ھندوستان ٗ پاکستان اور چین کے آبادکار نوآبادیاتی قومی ریاستی نظام کی طرف اشارہ کرتاہے جو کشمیر مخالف نسل پرستی کے لیےکام کرتا ہے تاکہ کشمیری خود مختاری دایرہ کارٗ خود ارادیت اور خود حکومت سے محروم کیا جا سکے۰ یہ اس بات کی بھی اجازت دیتا ہےکہ کشمیریوں کی زمینوں کو انکی اجتماعی ازاد مرضی اور پیشگی با خبر رضا مندی کے بغیر غصب کر کے نو آبادیات کو منتقل کردیا جاے۔
کشمیر مخالف نسل پرستی کی وجھ سے مقامی کشمیری مزاحمت کو جو آباد کرنےوالے نو آبادیاتی قابضوں کےخلاف ھے اسے ناجایز قرار دیا جاتا ھے اسکے بر عکس کشمیریوں کی زمین کو آبادکار (آبادکرنےوالے) استعماریوں کے قبضہ کے اختیار (کنٹرول) کوجایز قرار دیا جاتا ھے۔
کشمیر مخالف نسل پرستی ایک ایسا حربہ بن گیا ھے جس کے ذریعہ کشمیری زمین کی چوریٗ وسایل کی چوری اور اس کے تصرف سے کشمیر کے مقامی لوگوں کی نقل مکانی کومعمول بنا لیا جاے یعنی انکو ایک طرح سے شھر بدرکر دیا جاے۰ اسکے علاوہ اس فلسفہ کےذریعے کشمیری زمین پر بیرونی نسل پرستانا دعوہ والے لوگوں کےخود کو مقامی بنانے کے عمل کو مزید مستحکم کیا جاے تاکہ مقامی لوگوں کو تبدیل کیا جا سکے اور مٹایا جا سکے یعنی اسکا اصل مقصد آبادی کے لحاظ سے مقامی لوگوں کی ساخت (نسبت) کو تبدیل کرنا ھے (یا یوں کہ انکی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ھے) اور کشمیری زمین کی چوری کر کے و نیز نسل کشی کر کے فایدہ اٹھانا ھے۰
کشمیر مخالف نسل پرستی کو منظم دباو کے ذریعہ قانونی بنانا شامل ھے جو کشمیریوں کی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ھے اور اسکے حصول کے لے نت نیے قانون سازیٗ حکت عملی اور ثقافتی طریقےاختیار کیے جاتے ھیں ۰ کشمیر مخالف نسل پزستی میں یہ کام بھی شامل ھےکہ انھیں بدنام کیا جاے اورکشمیری اور انکے معاون کو تہمت اور بھتان لگا کر ھندو مخالفٗ دھشت گردوں کا حامیٰ منحرفٗ بغاوت پرست اور ملک دشمن جیسے القاب سے منسلک کیا جاے۔
کشمیرمخالف نسل پرستیٗ کشمیریوں کر غیر انسانی بنانے کے عمل کو فروغ دیتی ھے اور انکے بارے میں ایسی تصویر کشی کرتی ھے جیسے وہ خود حکمرانی اور اپنے ملک کے قومی معاملات اورعلاقے کےمعاملات کےلیے نا اھل اور نا کافی ھیں۰اس نسل پرست دقیانوسی تصور کو کشمیریوں کی فطری ضرورت کے طور پر جواز پیش کیا جاتاھے جسکے تحت انھیں کنٹرول کیا جاے یا نو آبادیاتی کو فروغ دیا جا سکے اور آبادکار نو آبادیاتی حکومت کے ذریہ انکی زمینوں پر قبضہ یا غصب کیا جاے ومزید انھیں اپنے معاملات اور علاقے کے معاملات پر خود ارادیت اور خود حکمرانی کے لیے غیر مستحق اور نا اھل قرار دیا جاے۔
نسل پرست کشمیری مخالف کی مختلف حکمت عملی (پالیسیاں) اور قوانین کشمیریوں کومرکزی دھارے میں آباد کرنےوالی نوآبادیاتی حکومتوں اور ثقافتوں میں ضم کرکے فنا کرنے کے لیۓ کام کرتی ھے۰ کشمیر مخالف نسل پرستی کا ایک مقصد یہ بھی ھےکہ (نت نیۓ) نو آبادیاتی اصولوں اور حکمت عملی کے ذریعہ کشمیریوں کوانکے اپنے ثقافتی طریقے اور انکی اپنی زندگی گزارنے کے طریقون کو(کسی نہ کسی طرح) کمزور کیا جا سکے۰ جو ایک خاص نمونہ کو احاطہ کار میں لا کر کشمیریوں کو انکی اپنی زبان بولنے پر انکی توھین کرکے شرمسارکیا جاۓ اور انکی ثقافت اور زبان کوپسماندہ اور کمتر (پچھڑا) بتا کر انکا مذاق اڑایا جاے۔
کشمیر مخالف نسل برستی کشمیریوں کے انسانی حقوق کی مزاحمت کو دقیانوسی تصور کیا جاتا ھے اور ان کی اپنی زمینوں کے مخالفت کی مزاحمت کوھند مخالف َ پاکستان مخالف َ چین مخالف عمل اور عناصر تصور کیا جاتا ھے اور اکثر ایسی حکمت عملی (پالیسیاں) اورقانون کو لاھیہ عمل میں لایا جاتا ھے جس کے ذریعہ کشمیریوں اور انکے معاونوں کے خلاف ظلم و ستم کو منظم طریقہ سے قانونی حیثیت دے دی جاتی ھے ۔
کشمیر مخالف نسل پرستی کے اظھار کی وجہ سے تعصب اور امتیازی سلوک کا اثر ہر کام کرنے کی جگھوںَ اسکولوں َ عبادت گاہوںَ پورے کشمیر کی زندگی کے تمام شعبوں اور تاریک وطن میں دیکھا جا سکتا ھے. یہ مثال دینا جو دستاویزوں میں رسمی طور پردرج ھیں زیادہ مناسب ھوگا جھاں کشمیریوں اور انکے حمایت کاروں کی ھوائ اڈوں پر سختی سے اور ضرورت سے زیادہ بیجا طور جانچ ھوتی ھے اور انکی کژی نگرانی کی جاتی ھے اور بعض صورتوں میں کشمیریوں کی آزادی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی حمایت کرنے والے کشمیریوں اور انکے معاون کو سفر اورنقل و حرکت پر پابندی لگا٘ دی جاتی ھے یا محدود کر دی جاتی ھے۔
جب کشمیریوں اور انکے حمایتی کو تعصب اور امتیآزی سلوک کا کا سامنا کرنا پڑتا ھے تو انکے تجربات کو پہلے تو انکار کیا جاتا ھے اور اسے کم سے کم کرنے اور مٹانے کی ہر ممکن کوشس کی جاتی ھے جو کشمیر مخالف ںسل پرستی کے اظھار کی دوسری شکل و صورت ھے۔
کشمیر مخالف نسل پرستی میں کشمیری ثقافت کی تخصیص شامل ھے (جس سے انکے استعمال کی ھنرمندانہ وراثت کو انکی اجازت کے بغیر ان سے چھینا جا رہا ھے) مثال کے طور پر فنون دستکاری (جیسے کژھائ کا کام روایتی کپژے اور زیورات)ٰ انکی اپنی موروثی موسیقی (جیسے بولیوڈ میں انکے روایتیی گانا بمبھرو بمبھروکا ھٹ دھرمی سے کورپوریٹ کا استعمال کرنا)ٰ اشیاۓ خوردنی یعنی کھانے کا سامان ( جیسے کشمیری” ن” چائ جسے نمکین چائ بھی کہا جاتا ھے جسے استعمار پسندوں کے ذریعہ “میٹھی کشمیری گلابی چائ ” کے نام سے فروخت کیا جا رہا ھے) اسکے علاوھ اور بہٹ ساری چیزیں شامل ھیں جسکا ذکر طویل ہو جایگا. ثقافتی تخصیص مالی فائدہ اٹہاناٰ تفریحی مقاصد کو پورا کرنا یامنافع کی دوسری شکلوں کے حصول کے لیے استعمال کرنا ہے اور یہ عمل اکثر و بیشتر بغیراجتماعی پیشگی ازادانہ اور با خبر رضامندی کے کیا جاتا ہے یا اور ثقافتی طور پر مناسب استعمال کی سمجھ کے بغیر اور کشمیری عوام کے متعلقہ تاریخی اھمیت کے پس منظر کو رکھے بغیر کیا جاتا ھے
کشمیر مخالف نسل پرستی کی وجہ سے کشمیریوں کی ذرائع ابلاغ نشر اور اشاعت (میڈیا) کے ذریعہ منفیٰ متنازعہٰ ناخوش گوار اور متعصبانہ تصویر کشی کی جاتی ھے جس سے کشمیری نقطہ نظر اورآوازوں کو مرکزی دھارےاور سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے دبانے اور فنا کرنے کے کام کو انجام دیا جاتا ھے
کشمیر مخالف نسل پرستی کی وجہ سے کشمیریوں کو تحفظِ امن کاممکنہ خطرہ (سیکوریٹی رسک) کا بہانہ بناکر ایک طرح سے مجرم کے طور پر ظاہر کیا جاتا ھے اور انکی خاکہ کشی (پروفایلینگ) اور نگرانی کی جاتی ہے. اس نگرانی کی تکمیل میں تمام ریاستی اور غیر ریاستی ادارات اور مقامات شا مل ہیں (مثلاً ھوائ اڈہٗ کام کرنے کی جگہٗ اسکول اور عام مقامات ). نتیجتاً ان جگہوں پر کشمیریوں کی ضرورت سے زیادہ نگرانی ٗ خاکہ کشی (پروفایلنگ) اور ڈاکسنگ (جو سائبر دھونس کی ایک شکل ھےجو حساس یا خفیہ معلومات یا بیانات کے ذریعہ ہراساں کرنے یا دوسرے ہدف کے استحصال کے لیے استعمال کی جاتی ھے). مزید اس کے علاوہ کشمیریوں کی ساخت کے بنا پر جسمانی تشد د ٗ ایزا رسائ اور دھمکی وغیرہ کے بیجا استعمال کا اظہار بھی کشمیر مخالف نسل پرستی کی وجہ سے دایرہ عمل میں اتا ھے۔
کشمیر مخالف نسل پرستی کشمیریوں کو انکے گھروں اور زمینوں سے زبر دستی بیدخل اور بیگھر کرنے کیلیۓ کام کرتی ھے اور یہ کام آبادکار استعمار کے ذریعہ انکے وسائل کو نکالنے اور انکی زمین کے حصول کے لیے کرایا جاتا ھے جس کے لیے نو آبادیاتی قانون کو بروۓ کار لایا جاتا ھے جو موروثی مقامی کشمیریوں کی زمینوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ھے ۔
کشمیری خلاف نسل پرستی کی وجہ سےکشمیریوں کو نو آبادکار قوانین کے تحت زندگی بسر کرنے کے لیۓ مجبور کیا جاتا ھے اور اپنے ھی علاقے اور زمینوں میں دوسرے درجہ کی رعایا کی طرح رھنا پڑتا ھے. یہی نہیں بلکہ نو آبادکاروں کے نقطہ تفتیش سے گزرنےکے لۓ انھیں اپنا شناختی کارڈ رکھنا ضروری ھوتا ھے اور انکو اپنے علاقے کے بعض حصّوں میں دخول کی ممانعت ھوتی ھے اسکے علاوہ بعض وسایل و خدمات (جیسے بجلی اور پانی) کے استعمال سے محروم کیا جاتا ھے یا بنیادی ڈھانچہ یعنی انفرا اسٹرکچر (جیسے پل) وغیرہ کی رسائـی سے انکو منع کیا جاتا ۔
اس کی وجہ یہ ھے کہ اس کے استعمال کے لیے نو آبادیات کو ترجیح دی جاتی ھے جب کے مقامی باشندوں کو انکے استعمال پر پابندی لگائ جاتی ھے جس
جس سے نسلی رنگ برنگی بھید بھاو یا امتیازی سلوک کا صحیح معانوں میں اندازہ لگایا جا سکتا ھے۔
کشمیر مخالف نسل پرستی کا اظھار یوں کیا جاتاھے بلکہ یوں کھیۓ کہ یہ الزام لگایا جاتا ھے کہ کشمیری جس مسائل سے دو چار ھیں اسکے ذمہ دار وہ خود ھیں اور اس جواز کے بہانے نوآبادیاتی قبضےٗ نسلی رنگ برنگی یا امتیازی بھید بھاو اور انکے خلاف جنگ جیسی چیزوں کا سامنا پژتا ھے. اسکے علاوہ ایک منظم سازش کے تحت نو آبادکار (کولونائزر) کشمیریوں کی اپنی برادری کے لوگوں کو مالی امداد (فنڈ) دیتے ھیں جس سے وہ دراندازی کریں جسکا مقصد صرف یہ ھے کہ وہ کشمیریوں کو مختلف جماعتوں میں تقسیم کر کے ایک دوسرے کے درمیان عدم اعتماد پیدا کر سکیں ۔
کشمیر مخاف نسل پرستی کا اظہار علامتی طور پر انفرادی یا مجموعی کشمیریوں کے ساتھ ہوتا ھے اور اس کے لئے کشمیر یا کشمیریوں کو اتحادی کار کردگی کے لئے استعمال کیا جاتا ھے تاکہ وہ اصولی یکجہتی اور احتساب سے بچ جاییں
اور اکثرکشمیریوں کے خلاف جان بوجھ کر کیۓ گۓ نقصان کی پردہ پوشی کر سکیں ۔
About the Author of the Urdu Translation – May 22, 2025
Dr. Fahad Ahmad is an Assistant Professor of Criminology at Toronto Metropolitan University.
About the Author, English version – July 14, 2024
Binish Ahmed is a PhD Candidate (ABD) at the Toronto Metropolitan University. She received her MA in Public Policy from Brock University and a BA Honors with a major in Political Science, & double minors in History & South Asian Studies from the University of Toronto. Her writings have appeared in the Indigenous Policy Journal, Critical Policy Studies Journal, Room Magazine, Feral Feminisms Journal, Rabble, UppingTheAnti, The Conversation, and more. Born in Srinagar, Kashmir, she currently lives and works in Tkaronto, the Dish With One Spoon Wampum Belt treaty territory. Read her other works here.
Thank you Dr. Fahad Ahmad for facilitating the Urdu translation of this work.
